An odhni or stole with calligraphy isn’t just cloth, it’s sentiment. Some emotions belong on your shoulders, others in ink.
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل م
وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیں
جو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیں
جو سچ پوچھو تو خود جیتے ہیں اور جینا سکھاتے ہیں
وہ دیوانے جو ہر طوفانِ غم میں مسکراتے ہیں
کچھ اس انداز سے وہ اپنی محفل میں بلاتے ہیں
کہ انسان کے قدم اٹھنے سے پہلے کانپ جاتے ہیں
وہ پچھلی شب کو اپنے رخ سے جب پردہ اٹھاتے ہیں
میرا احساس شاہد ہے دو عالم جھوم جاتے ہیں
تعجب کیوں ہے میری بے خودی پر اہلِ محشر کو
وہ جس کو بھی پلاتے ہیں کچھ ایسی ہی پلاتے ہیں
نہیں کچھ خاکِ دل لیکن پہنچ کر ان کے دامان تک
یہی ذرّے ماہ و خورشید بن کر جگمگاتے ہیں
محبت ابتدا تا انتہا عرفانِ کامل ہے
مگر ہم تو انہیں پانے سے پہلے کھو جاتے ہیں
تیرا کوچہ ہی کیوں رہ رہ کے پیہم یاد آتا ہے
اسی عالم میں عالم اور بھی تو پائے جاتے ہیں
شکوۃ کر رہے ہو کیف تم کو شکر لازم ہے
وہ مشکل سے کسی کو اپنا دیوانہ بناتے ہیں
کیف مرادآبادی













Reviews
There are no reviews yet.